سادہ لوح

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے وقوف، احمق، نادان، بھولا۔ "ان فریب خوردہ سادہ لوح اللہ کے بندوں کو صحیح حالات بتانے اور اسلام کے عقائد سے واقف کرانے کی شدید ضرورت ہے اس لیے کہ انھیں سچی باتیں معلوم نہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٤١٦ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'سادہ' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'لوح' لگانے سے مرکب 'سادہ لوح' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٨ء کو "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے وقوف، احمق، نادان، بھولا۔ "ان فریب خوردہ سادہ لوح اللہ کے بندوں کو صحیح حالات بتانے اور اسلام کے عقائد سے واقف کرانے کی شدید ضرورت ہے اس لیے کہ انھیں سچی باتیں معلوم نہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٤١٦ )

جنس: مذکر